Supreme Court Dam Initiative

میرا گاوں بونی

رقبے کے لحاظ سے  چترال صوبہ خبیر پختونخواہ کا سب سے بڑا ضلع ہے جو دو تحصیلوں “تحصیل چترال “(لوئر چترال) اور “تحصیل مستوج ”  ( اپر چترال)  پر مشتمل ہے ۔ بونی تحصیل مستوج کا صدر مقام ہے جو  چترال خاص سے ۷۵ کلومیٹر کے فاصلے پر  چترال شندور روڈ کے دائیں طرف واقع  ہے۔ بونی تقریبا  ۱۶۰۰ گھرانےاور ۹۰۰۰ سے زیادہ آبادی پر مشتمل  گاؤں ہے۔ سطح سمندر سے بونی کی  اونچائی  2082.43  میٹر ہے۔گاؤں بونی کی بائیں  طرف دریا یارخون بہتاہے اور اس کے ساتھ   چترال شندور روڈ کے   پر قاقلشٹ کا بے آب   و گیاہ وسیع میدان ہے ۔یہ علاقہ بونی کے باسیوں کی چراگاہ ہے۔

شمال کی طرف بونی کے اوپر شوپیشون کا علاقہ ہے۔ اس میں بھی بونی کے لوگ اپنے مال مویشی چراتے ہیں۔بہار کے موسم میں بونی کے  یہ دونوں  طرف کے چراگاہ  سرسبزو شاداب  ہوجاتے ہیں۔ صدیوں سے علاقے کے لوگ موسم بہار میں ان چراگاہوں میں  موسم کے حساب سے اپنا میلہ سجاتے آئے   ہیں ۔ جشن قاقلشت اب تو تقریبا ضلع کے سطح کا ایک جشن بن گیاہے۔ جس میں شرکت کےلیےلوگ پورےچترال سےآتے ہیں ۔ جشن قاقلشٹ میں پولو، فٹ بال،والی بال، مقامی کھیل غاروچون غاڑ، بوڈی دیک، رسہ کشی کے ساتھ  نشانہ بازی کا بھی مقابلہ ہوتاہے۔ قاقلشٹ میں پانی کا کوئی انتظام نہیں ہے  اس لیے پانی کا انتظام اپنی طرف سے کرنا پڑتاہے۔ جشن کےدوران  پانی کا انتظام جشن کی کمیٹی کی طرف سے کیاجاتاہے۔ جشن کے دوران دن کومختلف  کھیل اور دوسرے پروگرام منعقد  ہوتے ہیں  اور رات کو محفل موسیقی اور مشاعرے کا پروگرام سجتاہے۔

بونی کا منظر

 پرانے زمانے میں  جب جشن شوپیشون  کا  دن مقرر ہوتا ۔ توجشن کے مقررہ دن   سامنے کے ٹیلے کے اوپر صبح سویرے جاکے ڈھول بجانے والے ڈھول بجاتے۔ تو لوگ ڈھول اور شہنائی کی آواز سن کر بیدار ہوجاتیں تو لوگوں کو معلوم ہوتا کہ آج جشن کا دن ہے ۔ اس ڈھول بجانے والے جگہے کو اب بھی لوگ دھول دینی (ڈھول بجانے کی جگہ ) کے نام سے یاد کرتے ہیں۔اب یہ روایت ختم ہوچکی ہے۔

 یہ علاقہ سیاحت کےلیے  بہت اہم ہے ۔مئی کے موسم میں شوپنشون کا چکر لگایا جاۓ تو دل اس علاقے کو چھوڑ کر  واپس آنے کو نہیں کرتا۔ چشمہ،سبز ہریالی میدان پہاڑوں کے بیچ سے نیچے دیکھو تو بونی کا خوبصورت  منظر،بالائی حصۃ   سب چوٹیوں پر مشتمل ، دوسری طرف دیکھو تو بونی زوم   کی برف پوش چوٹی  جو ہر وقت برف سے ڈھکا ہوا  نظر آتاہے، برابر میں دائیں طرف سامنے دیکھو تو تریچ میر کی چوٹی برف سے ڈھکی ہوئی نظر آئے گی۔موسم بہار کے شروع میں یہاں پر  ہر طر ف ہریالی ہی ہریالی ہوتی ہے۔قدرت کی یہ کرشماتی مناظر دیکھ کر  بندہ مدہوش ہوجاتاہے۔

بونی سب ڈویژن مستوج کے ہیڈکوارٹر ہونے کے علاوہ ایک خوبصورت  قصبہ بھی ہے۔بونی کی سیرکرنے والوں کےلیےقاقلشٹ اور شوپیشون کے ساتھ   بونی گول  ایک پیکنک پوائنٹ ہے۔ گرمیوں میں معتدل دو نالوں کے درمیان  خوبصورت پہاڑوں کے دامن میں واقع بونی گول ایک  خوبصورت  نظارہ پیش کرتاہے۔سربفلک  برف پوش پہاڑ بالکل سر پر گرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔بونی کے آخرمیں دونالے ایک نالہ اویر گول جو گاؤں اویر کی طرف سے آتاہے۔ دوسرا نالہ  بونی گول  جوسامنے کےگلیشیرسے نکل کر آتاہے۔ دونوں نالوں کے ساتھ ساتھ کیمپینگ کےلیے اچھے اچھے خوبصورت جگہے اور ساتھ نالے کا صاف پانی بہتاہے۔

بونی اپنے باغات اور گھنے درختوں کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔بونی کے اندر  راہ چلتے ہوئے    لوگوں  کو درختوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ بونی کے لوگ باغبانی اور  درخت لگانے کے شوقین ہیں۔بونی میں رہنے والے اکثر یتی لوگوں کے پاس کھیتی باڑی کےلیے اپنی زمینیں  ہیں۔ یہ لوگ   کم ازکم آدھےسال کے  لیےخوراک اپنے  ہی کھیتوں سے حاصل کرتے ہیں۔ بونی میں گندم،چاول، جو، مکئی،  دالیں ،لوبیہ اور کئی قسم کے فصلیں ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ ٹماٹر،پیاز،آلو، مولی، چقندر کے ساتھ  موسمی سبزیوں کی فصل کےلیے مشہور ہیں۔ بونی اپنے ذائقہ دار پھلوں  مثلا ، ، آڑو، انار، انگور، شہتوت، خوبانی، اخروٹ ،آلوچہ ، املوک  خاص کر ناشپاتی (شوغوری ٹونگ) اور سیب کے حوالے سے پورے  ملک  میں مشہور ہیں ۔لوگوں نےمختلف پھلوں کے بڑے بڑے باغ لگا رکھے ہیں  جس کے ذریعے کئی  خاندان عزت سے روٹی کماتے ہیں۔

بونی کے لوگ خوش اخلاق،تعلیم یافتہ،مہمان نواز،اور محنتی ہونے کے ساتھ سیاسی طور پر بھی باشعور ہیں۔ عوامی سطح پر کئی پارٹیوں کے سپورٹرز ہیں۔ سیاسی اختلاف کو ایک دوسرے کا بنیادی حق سمجھتے ہیں اور کبھی بھی سیاسی اختلاف کو دشمنی کا نام نہیں دیتے۔اپنا پیغام بہتر طریقے سے لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ نرم خوہیں لڑائی جھگڑے سے پرہیز کرتے ہیں ۔تھانے اور کورٹ کچہری جانے کو پسند نہیں کرتے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ بونی تھانہ اور بونی کے سول اور سیشن کورٹ میں بونی سے تعلق رکھنے  والے لوگوں کےمقدمات  نہ ہونے کے برابر ہیں۔مزاجاً   آزادطبع  ہیں۔ ملازمت کے ساتھ ساتھ کاروبار  کرنے کو بھی  ترجیج دیتے ہیں۔اپنے علاقے سے محبت کرتے ہیں اس لیے اپنے علاقے کو چھوڑ کے کہیں اور جا کے بسنے کا رواج نہ ہونے کے برابر ہے۔

بونی کو ا اپنے جعرافیائی محل وقوع کی وجہ سے   چترال میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ شندور کی سیر کرنا ہو ،بروغل جانا ہو  یا پریوں کا مسکن تریچ میر کی طرف کوئی رختہ سفر باندھے   ہر ایک جگہ کےلیے گاڑی بونی سے ملے گی۔ اس لیے ایک طرف سے بونی اپر چترال کے تمام علاقوں کےلیے بیس کیمپ کا کردار ادا کرتاہے۔ بونی کے آب ہوا گرمیوں میں معتدل اور سردیوں میں سخت سرد ہوتاہے ۔ سردیوں                                       میں  زیادہ برف   پڑنے کی وجہ سے  بھی مشہور ہے۔

سب ڈویژن مستوج کے مرکز میں واقع ہونے کی وجہ سے تمام حکومتی اداروں کے آفس   بھی  بونی میں ہیں ۔

شی پیشون

ان میں محکمہ  نادرا، محکمہ بہبود آبادی  اور ڈاکخانہ  آفس   کے ساتھ ساتھ  صحت کی بنیادی سہولیات  جس میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال ، آغاخان ہسپتال،  پرائیویٹ ہسپتال ، ڈاکٹر حضرات کی ذاتی کلینک اور کئی میڈیکل سٹور  یہاں موجود ہیں۔ انسانوں کے ساتھ ساتھ حیوانوں کےلیے بھی شفاخانہ موجود ہے۔سول کورٹ اور سیشن کورٹ بھی لوگوں کی سہولت کے لیے موجود ہیں۔  بونی میں پولیس اسٹیشن جس میں ڈی ایس پی اور انتظامی آفیسر اے سی کے آفس بھی موجود  ہیں۔

گورنمنٹ آفس کی وجہ سے سب ڈویژن مستوج کے لوگوں کا بونی آنا جانا رہتاہے اس وجہ سے بونی کو ایک کاروباری اہمیت بھی حاصل ہے۔  کاروباری مرکز ہونے کی وجہ سے  بونی میں پاکستان کے معتبر بنکوں کی شاخیں بھی کھل چکی ہیں۔ جن میں نیشنل بنک آف پاکستان،حبیب بنک آف پا

پی ٹی ڈی سی بونی

کستان،اسلامی بنک آف پاکستان اور زرعی ترقیانی بنک شامل ہے۔ ایک اور اچھی بات یہ ہے کہ ان بنکوں نے لوگوں کی سہولت کےلیے اے ٹی ایم مشین بھی لگا رکھے ہیں۔   ان بنکوں کے سروس  کے ساتھ  ساتھ  ایزی پیسہ ،موبلینگ کارڈ اور دوسری  سہولیات بھی بونی میں موجود ہیں۔

قاقلشٹ

بونی میں مختلف برادریوں کے لوگ رہتے ہیں ان  میں سنگالے،سید،زوندرے،رضاخیل،ڈوکے،سنگھے،ڑوقے اور دَشمانے قبیلے   کے لوگ شامل ہیں۔ان برادریوں کے علاوہ بھی دوسری برادریوں کے لوگ کم تعداد میں آباد ہیں۔ ڈوکے برادری کے لوگ بونی میں  زیادہ جاگیر والے ہیں ۔ان کو  یہ بونے کے سب سے قدیم باسی ہونے کا  اعزاز بھی حاصل ہے۔  نسلی حوالے سے  مختلف ہونے کے باوجود سب برادریوں کے لوگ بونی میں ایک فیملی کی طرح پیار سے رہتے ہیں ۔ مذہبی طور پر بونی میں دو مسلک  سنی اور اسماعیلی رہائش پذیر ہیں۔  ان کی آبادی کے تناسب میں بھی بہت کم فرق ہیں۔ ایک دفعہ کی بدامنی کے علاوہ ان دونوں فرقوں کا کبھی بھی آپس  میں مذہبی تفرقہ نہیں رہا۔ کبھی کبھی تھوڑی بہت نوک جونک پیدا ہوجاتی ہے تو علاقے کے بڑے سارے مل کر ماحول کو خراب ہونے سے بچاتے ہیں۔ علاقے کے لوگ باشعور اور تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے امن اور محبت کی قدر جانتے ہیں۔ جب بھی کبھی ایسے مواقع  آتے ہیں تو شرپسند عناصر کی حوصلہ شکنی کرکے آپس میں مسئلے کو خوش اسلوبی سے حل کرتے ہیں ۔

بونی میں رہنے والےان ساری برادری والوں کی زبان کھوار اور ثقافت کھو ہے ۔ اس لیے چترال سے باہر یہ سارے لوگ  اپنے آپ کو کھو  اورچترالی  کہلانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

تعلیم کے میدان میں   بھی  اس گاؤں   کے کارہائے نمایاں  روز روشن کی طرح عیان ہیں۔بونی میں  پرائمری تعلیم  کا آغاز ۱۹۴۸ء میں ہوا تھا۔ مڈل سکول ۱۹۵۲ءمیں اور لڑکوں کےلیے ہائی  سکول ۱۹۶۲ء میں وجود میں آیا۔اب جگہ جگہ  پرائمری  سکول بچوں اور بچیوں کے لیے  کھل چکے ہیں۔  لڑکیوں کےلیےگورنمنٹ ہائی سکول  بھی موجود ہے۔ علاقے میں  تعلیم کو فروغ دینے میں پرائیویٹ سکولوں کا کردار بھی اہم ہیں۔جن میں   کئی ایک  معیاری  تعلیم کو پھیلانے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ ان  اداروں کا   تقابل ملک کے دوسرے  کسی بھی اچھے تعلیمی ادارےسے کیا جاسکتاہے۔ اب تو بونی میں اعلی ٰ تعلیم کے ادارے  بھی کھل چکے ہیں جس میں گورنمنٹ ڈگری کالج لڑکوں کےلیے، گورنمنٹ ڈگری کالج  لڑکیوں کےلیے موجود ہیں۔ ان دونوں کالجوں کے ساتھ   طلباء اور طالبات کےلیے ہاسٹل کی سہولت بھی موجود ہے۔ مذہبی تعلیم کےلیے لڑکوں اور لڑکیوں کےلیے مدرسے بھی قائم   ہیں جو مذہبی تعلیم کوعلاقے میں  پھیلانے میں اپنا کردار بخوبی ادا کررہے ہیں۔

بونی میں سیاحوں  کی سہولت کے لیے  ہوٹل بھی موجود ہیں جن میں   پاکستان ٹورازم  ڈیپارٹمنٹ کے پی ٹی ڈی سی ،سی این ڈبلیو کے ریسٹ ہاؤس،پراِئیویٹ گیسٹ ہاؤس کے علاوہ چھوٹےبڑے دوسرے ہوٹل بھی لوگوں کی سہولت کےلیے موجود ہیں۔ان کے علاوہ بونی بازار میں نائی  ،موچی اور عام کھانے پینے کے اشیاء کےلیے کئی دوکانیں موجود ہیں۔

بونی بازار

مستقبل کےلیے چیلنج :

کاروبار کے مواقع،تعلیم کےلیے بہتر ماحول،گورنمنٹ آفس  اور صحت کی بنیادی سہولت دستیاب  ہونے کی وجہ سے لوگوں کا رخ بونی کی طرف ہے۔ اس وجہ سےآبادی میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔ خدشہ ہے مستقبل قریب میں آبادی کے دباؤکی وجہ سے بہت سے مسائل کا سامنا ہوں جیسا کہ پینے کے پانی کا مسئلہ، رہائشی مکانات  کا مسئلہ اور صفائی کا مسئلہ۔ کیونکہ جس طریقے سے آبادی بڑھ رہی ہے اس کے مطابق بونی میں منصوبہ بندی کا  فقدان ہے۔بونی چترال کا  ایک خوبصورت  گاوں ہے اور مختلف سیاحتی علاقوں کے سنگم میں واقع ہے ۔ اس لیے ضروری ہے خیبرپختونخواہ  ٹورازم ڈیپارٹمنٹ،اور حکومت خیبر پختونخواہ  بونی میں سیاحوں کو باہم سہولت پہنچانے کےلیے اقدامات کریں۔ بونی نہ صرف بونی کے لوگوں کا بلکہ سب ڈویژن  مستوج کے باسیوں کا مشترکہ گھرہے ۔ اس  لیے یہ سب پر لازم ہے  کہ بونی کی تعمیرو ترقی میں سب اپنی بساط کے مطابق حصہ ڈالیں۔

Zeal Mobile Reporter
Share This