Supreme Court Dam Initiative

رابطہ کمیٹیوں کی تحلیل

 جمعیت علماء اسلام چترال کے مجلس عاملہ کا اجلاس 16 ستمبر 2018 کو امیر جمعیت علماء اسلام چترال مولانا عبدالرحمن قریشی کی صدارت میں جامعہ اسلامیہ ریحانکوٹ چترال میں منعقد ہوا ۔اجلاس میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ چترال سے باہر مختلف شہروں میں رابطہ کمیٹی جے یو آئی چترال کے نام سے بنائی گئی کمیٹیوں کے مثبت اور منفی اثرات پر سیر حاصل بحث ہوئی۔ جس میں متفقہ طور پر یہ بات سامنے آئی کہ ان کمیٹیوں کے نقصانات ان کے فوائد سے کہیں زیادہ ہیں ۔ اور یہ کمیٹیاں غیر دستوری ہیں اور خود بخود بغیر کسی جماعتی اجازت کے وجود میں آئی ہیں۔بڑے نقصانات میں جے یو آئی چترال کی جماعت میں باہمی اختلافات اور گروپ بندی ہے۔اور یہ باقاعدہ جماعت کی صورت اختیار کر چکی ہیں ۔اور صوبائی و مرکزی قائدین سے ملاقات کر کے اپنے آپ کو چترال کی جماعت کا نمائندہ باور کرا کر جماعتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔جو کہ چترال کی جماعت اور کارکنوں میں شدید اضطراب اور انتشار کا باعث ہے ۔ان حالات کے پیش نظر اس سے قبل بھی 30 دسمبر 2017 باقاعدہ مشاورت سے ان کمیٹیوں کی تحلیل کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ تاہم سیاسی ناموافق حالات اور انتخابی صورت حال کے پیش نظر فیصلہ نافذ کرنے کی بجائے محفوظ کر کے رکھا گیا تھا۔ اس لئے آج کے اجلاس میں سابقہ فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ رابطہ کمیٹی کے نام سے موسوم ضلع سے باہر جتنی کمیٹیاں ہیں ان سب کو تحلیل کر دیا جاتا ہے ۔ یہ تھا جمعیت علماء اسلام چترال کی قیادت کے فیصلے کا متن، جو کہ کراچی،لاہور اور اسلام آباد کے متعلقہ کمیٹیوں کے سربراہوں کے نام بھیجا جا چکا ہے۔ چترال کی ضلعی قیادت کا یہ فیصلہ ان کمیٹیوں کے حق میں انتہائی سخت غیر متوقع فیصلہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فیصلے کے بعد سے اب تک ان کمیٹیوں کے مخلص اور فرض شناس ممبران میں ایک تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ امر باعث صد افسوس اور باعث صد تشویش ہے کہ چترال کی جماعت نے ضلع سے باہر ان کمیٹیوں کو چترال کی جماعت کے اندرونی اختلافات اور خلفشار کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ گروپ بندی کا الزام بھی انہی کمیٹیوں کے سر دھر دیا گیا ہے۔ رابطہ کمیٹیوں کی حقیقت اور ان کا منشور کیا ہے۔؟ میری دانست کے مطابق پشاور،اسلام آباد،اور کراچی کی رابطہ کمیٹیوں کا قیام صرف اور صرف چترال کی جماعت کے مفاد میں عمل میں لایا گیا تھا،اور ان کا سب سے بڑا منشور بھی یہی تھا کہ ضلع سے باہر رہنے والے چترال کے علماء کرام، ضرورت کے وقت چترال کی جماعت کے ساتھ دست تعاون بڑھا سکیں۔اور اس سے بھی بڑا منشور یہ تھا کہ علماء کرام آپس کے تمام تر اختلافات کو بھلا کر کسی ایک مقصد کے حصول پر متفق ہو جائیں ۔ان کمیٹیوں کو ترتیب دینے والے چترال کے وہ علماء کرام ہرگز نہیں ہیں جو فارغ التحصیل ہیں،بلکہ ان کمیٹیوں کو تشکیل دینے والا طبقہ جمعیت طلباء اسلام کے مخلصین کا وہ ٹولہ ہے جو اپنی نجات کا آخری ذریعہ اپنی جماعت کی بقاء کو سمجھتا ہے۔جو اپنی زندگی کا آخری سرمایہ جمعیت علماء اسلام کو گردانتا ہے۔ جو اپنی امیدوں کی آخری کرن اسی جماعت کے ماتھے پر دیکھتا ہے ۔ ان کو اختلافات سے کوئی سروکار نہیں، وہ کسی کی دشمنی سے کوسوں دور ہیں۔ ان کو برا سوچنے کا وقت ہی نہیں ملتا،وہ اپنے پاکیزہ اوقات میں سے پاکیزہ کام کے لئے وقت نکالتے ہیں،وہ علمائے کرام سے اتفاق و اتحاد کی بھیک مانگتے ہیں، وہ دوسروں کے جرم کا معافی اپنے سر لے کر اختلافات کو دفنانے کی سعی کرتے ہیں، وہ اپنے لئے اتنا نہیں سوچتے،جتنا جماعت کے مفاد کے لئے سوچتے ہیں۔وہ اتحاد کے حدی خواں ہیں۔وہ امن آشتی کے پیغام رساں ہیں۔ان کمیٹیوں کے لئے منشور بھی یہی طلباء کرام طے کرتے ہیں۔ جس میں اتفاق کی شق سب سے پہلے نمبر پر ہوتی ہے۔ہمیں یاد ہے 2013 میں جب دن کے وقت کراچی کا آسمان لو برسا رہا تھا،اور رات کو کراچی کے “نامعلوم افراد” گولیاں برسا رہے تھے انہی گولیوں کے دندناہٹ میں اس وقت کے جمعیت طلباء اسلام چترال کراچی کے صدر مولانا ظہیر الدین صاحب کی ٹیم اور کابینہ پسینہ پونچھتی اسی رابطہ کمیٹی کراچی کے قیام کے لئے دوڑ رہی تھی، اور بالآخر ان کی کوششوں کے نتیجے میں کراچی میں چترال کے علماء کا رابطہ کمیٹی کا قیام عمل میں آیا، اور پھر یہی رابطہ کمیٹی کے ممبران نے 2013 کے الیکشن میں چترال کی جماعت کا بھر پور ساتھ دیا، بینرز،پینافلیکس،اسٹیکرز سے لے کر جھنڈا بنانے کے لئے کپڑوں کے کئی تھان کراچی سے چترال بھیجے گئے، ان رابطہ کمیٹیوں کے ممبران کوئی ایرے غیرے نہیں بلکہ جماعت کے مخلص اور پاکیزہ سوچوں کے حامل ہیں، ان میں سنجیدہ با صلاحیت علماء کرام،دانشور،ادیب،اور صحافی شامل ہیں۔ بلا سوچے سمجھے ایک انتہائی گھناونا اور غضب کا الزام ان علماء کرام پر تھونپنا کہاں کا انصاف ہے؟ بلکہ، ہمیں یاد ہے ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔چترال کی جماعت میں گروپ بندی کا آغاز ان رابطہ کمیٹیوں کی تشکیل سے بہت پہلے ہو چکا ہے۔ان رابطہ کمیٹیوں کا اولین مقصد چترال کی جماعت میں ان گروپ بندیوں کا خاتمہ کرنا تھا، چہ جائیکہ وہ خود ہی ان گروپ بندیوں کو مزید ہوا دے۔ اگر سچ کہیں تو ان گروپ بندیوں میں وہی لوگ ملوث ہیں جن کا کسی رابطہ کمیٹی میں نام تک نہیں ہے۔ ان گروپ بندیوں کی داغ بیل چترال میں ڈالی گئی، اور پھر مختلف الخیال افراد کے ہاتھوں پروان چڑھی۔ میں ذاتی طور پر ان حضرات کو جانتا ہوں جو کراچی میں بیٹھ کر چترال کی جماعت کے آپریٹر تھے ، اور کسی رابطہ کمیٹی میں ان کا نام تک نہیں تھا، 2013 کے الیکشن میں جمعیت علماء اسلام کا اپنا عالم دین ان کے خلاف آزاد امیدوار کے طور پر کھڑا تھا، اور میری معلومات کے مطابق وہ کسی رابطہ کمیٹی کا رکن نہیں تھا، 2014 کے آواخر میں چترال میں ضلعی نظامت کے سلسلے میں سر اٹھانے والا اختلاف نے چترال کی جماعت کو دوحصوں میں  تقسیم کردیا، ان میں کوئی بھی رابطہ کمیٹی کا رکن نہیں تھا، آپ کس دنیا میں رہتے ہیں ۔؟ خدارا اپنی ناکامیوں کا بوجھ ایک مخلص گروہ پر مت ڈالئے۔ دوسرا الزام ان کمیٹیوں پر یہ ہے کہ یہ غیر قانونی ہیں۔ بہت اچھی بات ہے اگر دستور میں اس قسم کی سرگرمیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے تو پھر یہ غیر دستوری ہوئے، لیکن کیا اس دستور میں ایک شق کا اضافہ کر کے اپنی جماعت کے فائدے کا قانونی انتظام نہیں کیا جا سکتا،پھر اگر یہ غیر دستوری ہیں تو جمعیت طلباء اسلام چترال کراچی،پشاور،اسلام آباد یہ سب کے سب غیر دستوری ہیں۔ بلکہ 2015 میں ہمارے مادر علمی مدرسہ امام محمد کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ حسین احمد صاحب نے سختی سے ان علاقائی نام کی تنظیموں کی مخالفت کی تھی،بلکہ آئندہ کے لئے ان سب کو مرکزی جمعیت طلباء اسلام میں ضم ہونے کی تاکید کی تھی۔لیکن اس کے باوجود آج وہی علاقائی نام کی تنظیمیں فعال کام کر رہی ہیں۔ اور کراچی اسلام آباد،پشاور میں رہ کر اپنے علاقے کی جماعت سے تعاون کر رہی ہیں ۔ دوسری بات اگر یہ کمیٹیاں غیر دستوری ہیں تو ان کی طرف سے ملنے والا کوئی بھی تعاون غیر دستوری سمجھا جائے گا، اب غیر دستوری کا معنی آپ غیر قانونی لے لیں یا پھر کچھ اور۔ہر لحاظ سے ان کا تعاون آپ کے لئے جائز نہیں ہوگا، آپ نے ایک فیصلہ 30 دسمبر 2017 سے محفوظ کر رکھا ہے۔ اس وقت سے ان کمیٹیوں کا غیر دستوری ہونا آپ کے ہاں عیاں ہو چکا ہے۔ اس کے بعد 25 جولائی 2018 کے الیکشن میں آپ کی اخلاقی ذمہ داری یہ بنتی تھی کہ ان کمیٹیوں کے توسط سے آنے والے کسی بھی تعاون کو قبول نہ کرتے۔ اب ایسا تو مت کرو نا کہ “میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھوتھو” اپنا مقصد حاصل کر کے کسی کو پھیکنا کہاں کا انصاف ہے۔؟ اور یہ بات مسلم اور سو فیصد مسلم ہے کہ حالیہ الیکشن میں چترال سے علماء کی کامیابی ان ہی کمیٹیوں کی محنت کی مرہون منت ہے۔ الیکشن صرف پیسوں سے اگر جیتنا ہوتا تو علماء کرام سے کئی گناہ پیسوں کے مالک مد مقابل تھے، لیکن ایسے موقع پر اپنے مقابل کو فکری اور ذہنی دباو سے چت کرنا سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔ اور یہی دباؤ امسال ضلع سے باہر ٹولیوں کی شکل میں چترال آنے والے علماء کرام کے جوق در جوق قافلوں نے مخالفین پر ڈالا تھا، دروش میں استقبالیہ کیمپ سجانے والے ہمارے مہربان اس کیفیت سے بخوبی واقف ہیں کہ باہر سے علماء کرام کی آمد نے چترال کی سیاسی فضا کی رخ کو کیسا تبدیل کیا تھا، ضلعی جماعت کے فیصلے کا جائزہ لینے کے لئے جمعرات کے دن لاہور ،پشاور،اور اسلام آباد کی رابطہ کمیٹیوں کا ایک مشترکہ اجلاس راولپنڈی میں بلایا گیا تھا، جس کے اجمالی فیصلے کے مطابق ان کمیٹیوں کو مزید فعال کرنے کا عندیہ دیا جا چکا ہے۔ ضلعی جماعت کے فیصلے کے مطابق اگر یہ کمیٹیاں فی الواقع تحلیل ہو گئیں،تو آئندہ الیکشن میں ان کمیٹیوں کی یاد چترال کی جماعت کو بہت ستائے گی۔اس وقت ان کو خوبانی اتارنے کے لئے کسی سر پھرے کی پھر ضرورت پڑے گی، لیکن تب تک پل کے نیچے سے  بہت پانی گزر چکا ہوگا۔

Zeal Mobile Reporter
Share This