Supreme Court Dam Initiative

ریشن بجلی گھر اور سو دنوں کی منصوبہ بندی

۸  اکتوبر ۲۰۱۷  ء کو اس وقت کے وزیراعلیٰ صوبہ خیبر پختونخوا  اب کےمرکز میں  وزیر دفاع پرویز خٹک  چترال تشریف لائے، چترال پولوگراونڈ میں قوم سے خطاب کیا۔ پولو گروانڈمیں چترالی عوام کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ اس جلسہ عام میں جناب پرویز خٹک نے اپنے دور حکومت میں  عوامی مفاد میں کیے گئے  بہت سارے  اقدامات کا  ذکر کیا ۔ ان میں سے ایک ریشن بجلی گھر بھی تھا۔ ریشن بجلی گھر کے بارے میں چترال  اور خصوصا اپر چترال کے عوام کو خوشخبری دیتے ہوئے کہا “ریشن بجلی گھر پر کام زور و شور سے جاری ہے  اور چند دن میں یہ پاؤر ہاؤس بحال ہوجائیگا  اسے علاقے کو بجلی ملنا شروع ہوجائیگا”۔  میں بھی اس جلسے میں موجود تھا ۔ بجلی گھر کی بحالی کا سن کر اپر چترال کے عوام کی خوشی دیدنی تھی۔وہ  وقت گزرگیا۔  اس طرح پرویز خٹک کے صوبائی حکومت  کی معیاد ختم ہوگئی ۔

۲۵ جولائی ۲۰۱۸ ءکو دوبارہ الیکشن ہوئے ۔   مرکز کے ساتھ ساتھ تینوں صوبوں (پنجاب،صوبہ خیبر  پختونخوا، بلوچستان)  میں   تحریک انصاف کی حکومت آگئی ۔ عمران خان نے وزیر اعظم کا حلف لیا۔ وزیراعظم  بننے کے بعد عمران خان نے  معاشرے میں بہتری کے لیے سوروزہ  منصوبہ ترتیب دیا۔ اس بات کو یہاں پر ختم کرتے ہیں۔

یہ ساری کہانی  مجھے اس لیے  یاد آیا ،       کچھ گزشتہ ہفتے  مجھے    ریشن پاؤر ہاؤس جہاں سے تحصیل مستوچ کے اکثریتی  علاقوں کو بجلی مہیا ہوتی تھی جانے کا موقع ملا۔  ۔ جس پاؤر ہاؤس کا  ذکر  اس وقت کے  وزیر اعلی ٰنے بحالی کے کام کو مکمل ہونے اور دوبارہ چلانے کے لیے کچھ دن کا کہاتھا ۔

دور سے دیکھا   بہت سے لوگ کام میں مصروف تھے ۔ ایک سائیڈ پر ایک ٹریکٹر بھی ملبہ ہٹانے میں لگاہواتھا ۔ جاکے دیکھا نہ صرف بجلی گھر بلکہ لوگوں کے گھر بھی اس وقت کے  سیلاب میں بہہ گئے تھے ۔نیچےکے دیہات کے پانی کی  سپلائی لائن  کوبھی  سیلاب  بہا کر لے گیاتھا۔  کئی سال گزرنے کے بعد بھی بہت سارے لوگ   پانی کی لائنوں کو ٹھیک کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ کیونکہ ابھی تک پائب لائن صحیح نہیں ہوئے تھے ۔ اب یہ لوگ سی ڈی  ایل ڈی کے تعاون سے     پانی کی سپلائی  کو بحال کرنے  اور سیلاب کے لیے بند بنانےمیں لگے ہوئے تھے۔

وہاں پر یہ  بتاگیا  سیلاب کی تباہ کاری کے بعد بہت سے لوگوں نے  اپنے گھر بھی دوسری جگوں پر متنقل کردیئے ہیں کیونکہ سیلاب نے ان کے لیے گھر بنانے کی جگہ بھی نہیں چھوڑی تھی۔

اس وقت تو  محترم وزیر اعلی ٰنے  یہ اعلان بھی کیاتھا کہ ۳۰ ارب روپے سیلاب زدگان میں تقسیم کیے گئے ہیں لیکن یہاں  پر آکر  ان لوگوں کے حالت زار دیکھ کر یہ معلوم ہوا یہ اعلان بھی ریشن بجلی گھر کی بحالی کی طرح  ہی تھی۔

دوبارہ آتے ہیں ریشن پاؤر ہاؤس کی بحالی کے کام کی طرف ،اپر چترال کی ادھی سے زیادہ آبادی کو بجلی مہیا کرنے والا یہ واحد بجلی گھر تھا جو سیلاب  کی وجہ سے متاثر ہوا۔ سیلابی ریلا اس پاؤر ہاؤس کے اوپر سے گزر گیا ۔ پاؤرہاؤس کی عمارت کو بہاکر لے گیا اور مشین ملبے تلے دب گئے ۔سیلاب کے  بعد  کوشش   کرکے مشینوں  کے اوپر سے ملبہ ہٹایا گیا۔ دیکھنے سے یہ معلوم  ہوتاہے کہ مشینین بھی صحیح حالت میں ہیں ۔ صرف ان مشینوں کی صفائی کرکےاوپر سے چھت ڈال کر ان کو محفوظ کرکے   چلانے ہیں۔ بس ۔لیکن جب سے ان مشینوں کے اوپر سے ملبہ ہٹایا گیاہے تب سے ان کے اوپر کسی نے توجہ نہیں دی ہے۔ شاید انتظامیہ کی ذمہ داری ملبہ ہٹانے تک کی تھی ۔

اس ساری کہانی  کو سو روزہ منصوبہ بندی کے ساتھ جوڑنے کا  مقصد صرف یاد دہانی ہے ۔ اعلانات ہوتے ہیں ، منصوبہ بندی کرتے ہیں لیکن جب عمل درآمد کا وقت آتاہے تو سارے  منصوبہ ساز گھوڑا بیج  کےسوجاتے ہیں۔  پلان تو بنتے ہیں ۔پہلے بھی بنتے رہے ہیں بعد میں بھی بنیں  گے۔ لیکن جب تک علاقے کےنمائندے اپنے علاقے ،اپنے کام  اور اپنی سیاست سے مخلص نہ ہوں۔ تو یہ مسائل آتے  رہیں گے ۔ جیساکہ ریشن بجلی گھر کی مثال ہمارے سامنے ہیں۔ اس میں جو اعلان وزیر اعلی ٰنے چترال  جنالی میں لوگوں کے سامنے کیا تھا ۔ اس میں قصور وزیر اعلیٰ کا نہیں ہے اس کو کسی نے بتایا ہوگا کہ ریشن بجلی گھر میں کام تکمیل کے قریب ہے ۔ وزیراعلی کے کان بھرنے والے کون ہوسکتے ہیں ۔ ان میں ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے لوگ، ضلعی پارٹی کے عہدہ دا وغیرہ

ضلع ایڈمنسٹریشن کے لوگ خیر ہمیشہ ہائی کمانڈکو خوش کرنے کیلئے اور اپنے آپ کو ایک بہتر ایڈمنسٹریٹر ظاہر کرنے کیلئے ایسی حرکتیں کرتے رہتے ہیں ۔اس وقت کے ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے افسروں میں سے شاید اب کوئی یہاں پر ہوں۔ لیکن افسوس پارٹی کے ان ضلعی قائدیں جن کا تعلق پاکستان تحریک   انصاف  سے ہیں۔ ان کی سیاست اس علاقے سے وابستہ ہے ۔ کیا تحریک انصاف کے ان قائدین کو وزیر اعلیٰ کو ریشن پاؤر ہاؤس کے بارے میں سچ نہیں بتانا چاہیے تھا۔اگر یہ لیڈر عوام سے مخلص ہوتے۔ وزیر اعلیٰ کو اس علاقے کا دورہ نہیں کروانا چاہیے تھا۔  اگر تحریک انصاف کے ضلعی قائدین وزیر اعلیٰ کو اس پاؤر ہاؤس کے بارے میں سچ بتاتے کیا پارٹی کو فائدہ  نہیں ہوتا؟ اگر ریشن پاؤر ہاؤس بن جاتا تو پی ٹی ائی کے ضلعی قائدین  کو الیکشن میں فائدہ نہیں ہوتا؟  چترال میں ریشن بجلی گھر کی طرح اور بھی بہت منصوبے مختلف اوقات میں لا پرواہی ،سیاسی  چپقلش اور بدانتظامی کے شکار ہوتے رہے ہیں ۔

ریشن پاؤر ہاؤس ہمارے سامنے  ایک مثال ہے۔ غلط بیانی کا ، اپنے کام سے مخلص نہ ہونے کا ، عوام کی مجبوریوں کے   احساس نہ ہونے کا۔ انتظامیہ کی نااہلی کا ،بد انتظامی کا ، اداروں کے اپنے کام سے مخلص نہ ہونے کا،حکومتی مشینری اور پیسے کے ضیاع کا۔

اس وقت عوام ،سیاسی لیڈر ، انتظامیہ ،ممبران اسمبلی   اور عوام اپنے علاقے اپنے کام  سے مخلص نہ ہوئے  ، تو سوروزہ پلان  کیا  ہزار روزہ منصوبہ بندی سے بھی کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ تبدیلی کےلیے ضروری ہے کہ ہم  پہلے  اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے   اپنے گریبان میں جھانکے پہلے اپنے اب کو تبدیل کریں  پھر تبدیلی کی بات کریں۔

Zeal Mobile Reporter
Share This