Supreme Court Dam Initiative

دنیا کو درپیش سب سے بڑے خطرات

ورلڈ اکنامک فورم کے ایک سروے کے مطابق دنیا کے نازک ترین مسائل میں سے درج ذیل کلیدی نوعیت کے ہیں۔ ان چیلنجز کو سامنے رکھ کر چترال کو درپیش مسائل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

۱۔موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی وسائل  کی تباہی:دنیا کی تقریباً آدھی آبادی سمجھتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل انسانی زندگی کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہیں۔چترال کے تناظرمیں دیکھا جائےتو یہ مسئلہ کلیدی نوعیت کا ہے۔ ۲۰۱۶ میں چترال کے اندر کم ازکم ۲۹ جانوں کا ضیاع ہوا جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل تھیں۔فصلوں کا نقصان، گھروں، مال مویشی، سکول، دکانیں اور دیگر انفراسٹرکچر کی تباہی کا تخمینہ NDMAکروڑوں میں لگا رہا ہے۔اور اس قسم کی تباہی ۲۰۰۵ءکے بعد سے ہم مسلسل دیکھتے آرہے ہیں۔کئے گاؤں ایسے ہیں جہاں انسانی زندگی مکمل طور پر معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔اس لیےکوئی چیز اگر ہمارے لیےسب سے بڑھ کر اہم ہے وہ ماحول کی حفاظت ہے۔ کم ازکم جو چیز ہم سب کر سکتے ہیں وہ ہے صفائی  کا خیال اور درخت لگانا۔ شجر کاری صدقیہ جاریہ بھی ہے۔

۲۔جنگیں اور دہشت گردی: جنگوں کے اثرات سے دنیا کا کوئی ملک محفوظ نہیں ہے، اور ہمارا ملک گزشتہ کچھ سالوں سے بری طرح اسکی لپیٹ میں ہے۔ تاہم چترال پاکستان سے زیادہ افغانستان میں بر سر پیکار امریکی افواج اور طالبان کے مابین جاری جنگ و جدل سے متاثر ہوا ہےاور دلچسپ طور پر اس کے مضمر اثرات صرف جانی نقصان ہی نہیں بلکہ انتہا پسندی کی صورت میں اور صحت کے حوالے سے بھی رہے ہیں۔ چترال میں ہوشربا حد تک بڑھتے ہوئے کینسرکے امراض کی ایک بڑی وجہ افغانستان میں جاری جنگ میں دھماکہ خیز مواد، بموں اور دیگر ہتھیاروں کے استعمال سے اٹھنے والی تابکاری ہے۔یہ امر قابل غور ہے کہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کیے جانے والے فیصلوں کا ہمارے معاشرے پرمختلف صورتوں میں اثر پڑھتا ہے۔

۳۔وسائل کی نامناسب تقسیم اور معاشرتی تفریق: دنیا بھر میں اس چیلنج کو محسوس کیا جارہا ہےاور اس حولے سے دیکھا جائے  تو چترال میں کالاش کمیونٹی کے ساتھ روا رکھا جانے والا رویہ انتہائی نامناسب ہے۔ یہ رویہ بحیثیت مجموعی تقریباً تمام چترالی، بشمول پڑھے لکھے کالاش مرد و خواتین بھی نا دانستہ طور پر پروان چڑھا رہے ہیں۔ دوسرا محروم طبقہ خواتین کا ہے۔ مولانا عبدالاکبر صاحب کے خواتین کی تعلیم کے حوالے سے حالیہ بیان یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ چترال کی لیڈرشپ اس مسئلے کو سمجھنے سے اور نتیجتاً ترقی کی راہ سے ابھی بھی کوسوں دور ہے۔

۴۔غربت: تقریباًتیس فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ غربت ایک بڑا چیلنج ہے۔غربت زیادہ بڑا مسئلہ اس لیے ہے کہ یہ دیگر بہت سارے مسائل  کو جنم دیتا ہےاور PPAF کی رپورٹ کے مطابق چترال میں غربت کی شرح بڑھ رہی ہے جو کہ تشویش کا باعث ہے۔غربت کے بارے میں ایک حدیث شریف ہے جسکا مفہوم یہ ہے “کہ غربت سے بچنا چاہیے کیونکہ غربت انسان کو شرک تک لے جاتا ہے۔”

۵۔مذہبی اور فرقہ وارانہ تنازعات: بہت سارے لوگ مذہبی تنازعات کو دنیا کا سب سے سنجیدہ مسئلہ سمجھتے ہیں ۔ہندوستان،میانمر،یورپین ممالک، پاکستان اور دیگر ممالک میں مذہب کے نام پر تعصب دنیا میں امن کا شاید سب سے بڑادشمن ہے۔چترال میں رہنے والے تمام طبقات مزاجاًمذہبی ہم آہنگی کے قائل ہیں۔تاہم کچھ عناصر ایسے ضرور موجود ہیں جنکا مقصد مذہبی منافرت کو ہوا دینا ہوتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے عناصر کو پہچانا جائےاور ان پر پر کڑی نظر رکھی جائے۔ایسے کسی بھی عنصر کو پولیس کی نظر میں لانا عوام کی اولین ذمے داری ہے۔

۶۔کرپشن: دنیا کی تقریباً۲۲فیصد آبادی بدعنوانی اور حکمرانوں کی کرپشن کو ایک بہت بڑا مسئلہ سمجھتی ہے۔اس بات سے یہ بھی ظاہر ہے کہ کرپشن سے پاک کوئی معاشرہ نہیں مگر مہذب معاشرے اس ناسور کو ختم کرنے کے لیے حکمرانوں پر بھرپور دباؤ ڈالے رکھتے ہیں۔

۷۔پانی اور کھانے کا بحران: پانی کا مسئلہ نہایت خطرناک ہے۔پانی کی کمی چترال کا بھی اتنا ہی بڑا مسئلہ ہے جتنا دنیا کے کسی اور علاقے کا ہے۔

۸۔تعلیم: تعلیم کی ترسیل چترال کا سب سے بڑا مسئلہ شاید نہ ہو مگر معیار تعلیم یقیناً ایک کلیدی مسئلہ ہے۔اس ضمن میں سکولوں کو بہترین سہولیات کا انتظام کرانے پر مجبور کرنا یقیناًمحکمہ تعلیم کا کام ہے۔ اسی طرح یونیورسٹی آف چترال کو جدید طرز کی درسگاہ بنانے کے لیے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

۹۔سیکیورٹی اور معیار زندگی: یہ امر خوش آئند ہے کہ چترالی قوم نہایت مہذب، روشن خیال اور امن پسند واقع ہوا ہے۔تاریخی طور پر چترال چوری چکاری، قتل و غارت گری اور دیگر جرائم کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے اچھے ضلعوں میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم گزشتہ کچھ سالوں سے ان واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اس لیے یہ بات اہم ہے کہ پولیس لوگوں میں اپنا اعتماد بحال رکھنے کے لیے واقعات رپورٹ ہونے کی صورت میں جلد کاروائی  کرے اور کسی بھی قسم کی دباؤ میں آئےبغیر اپنا فرض نبھاتے رہے۔عوام کا یہ فرض ہے کہ اس حو۱لے سے وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بھرپور ساتھ دیں۔عوام میں احساس تحفظ نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اس احساس کے ساتھ ہی لوگ زندگی کے دوسرے پہلووں پر توجہ دے کر آگے بڑھ سکتے ہیں۔

۱۰۔بے روزگاری: ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ۲۰ لاکھ نوجوان بے روزگار ہیں۔خدشہ ہے کہ یہ تعداد ۲۰۲۰ءتک دوگنی ہوجائے۔جبکہ ضلع چترال میں بے روزگاری کی شرح تقریباً۵۳ فیصد ہے جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔ یاد رہے کہ ضلع میں ہونے والی خود کشیوں اور ذہنی مریضوں کی بڑھتی تعداد کی ایک خاص وجہ بے روزگاری بھی ہے۔اس تناظر میں ایم این اے چترال مولاناعبدالاکبر چترالی کا این جی اوز کے خلاف بیان نہ صرف بے وقوفانہ بلکہ نہایت قابل مذمت بھی ہے۔

Zeal Mobile Reporter
Share This