Supreme Court Dam Initiative

کیا ہر”خان صاحب” دہشتگرد ہے؟

کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اسلام آباد کی ٹریننگ اکیڈیمی میں ایک سیشن کے دوران پنجاب سے تعلق رکھنےوالے  ایک پریزنٹر نے باتوں باتوں میں کہا کہ “مجھے اعتراف ہے کہ ہم پنجابی کبھی کبھی پٹھانوں کے ساتھ گھُل ملنے سے کتراتے ہیں”۔ یہ واقعہ یاد دلانے کا محرک ڈان نیوز کا ایک پروگرام تھا جس میں باچاخان اکیڈیمی پشاور کے سربراہ اور مشہور ادیب خادم حسین نے کہا کہ پختونوں کے سماج ، روایات  اور رہن سہن کو بربریت، ظلم اور ناانصافی سے تعبیر کرنے کا سلسلہ بہت پُرانا ہے اور جب حالات تھوڑی نزاکت کی طرف جاتے ہیں تو ذہنوں میں پختونوں کے بارے سوچ کا وہ پُرانا ذخیرہ مادی شکل میں باہر آتاہے۔

ملک میں یہ بحث کہ آیا پاکستان میں صرف پختون دہشتگرد ہیں اِن دنوں ٹی وی پر شام کے پروگراموں میں ہاٹ اِشو ہے۔ یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ، بیوروکریسی اور سلامتی کے اداروں کےا علیٰ افسران نے یہ حکم نہیں دیا ہوگا کہ پنجاب میں جہاں جہاں پٹھان ہیں اُن کو پکڑ کر پوچھ گچھ کیا جائے  یا اُن کے کوائف نئے سرے سے جمع کیے جائیں۔

پاکستان سُوپر لیگ کا فائنل لاہور میں منعقد کرانے کا اعلان ہوتے ہی لاہور شہر دھماکوں کا شکار ہوا۔ دو ایک جگہوں پر واقعتاً دھماکے ہوئے اور درجنوں شہری ہلاک ہوئے جبکہ لاہور شہر کے پوش علاقے یعنی ڈیفنس  میں دھماکوں کی افواہوں نے خوف کا سماں پیدا کردیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر شہروں میں بھی ایک بار پھر دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوا اور سندھ کے شہر سہون میں صوفی بزرگ شہباز قلندر کے مزار پر دھماکے کے نتیجے میں 80 کے قریب اموات ہوئیں۔ دھماکوں کی ذمہ داری مختلف کالعدم تنظیموں نے قبول کی جبکہ سہون دھماکوں کیلئے داعش کو ذمہ دارقرار دیا گیا ہے ۔

پنجاب کے اعلیٰ حکام نے کچھ بھی احکامات جاری کیے ہوں لیکن نیچے کے حکام نے عملدر آمد کے مرحلے میں مٹی پلید کردی ہے۔ منڈی بہاؤلدین پولیس کی طرف سے جو ہینڈ آؤٹ جاری کیا گیا وہ کسی بھی لحاظ سے قابل قبول نہیں تھا۔پنجاب حکومت اور محکمہ پولیس نے اس ہینڈ آؤٹ سے مکمل بریت کا اعلان کیا اور اِسے جعلی قراردیاگیا۔ جبکہ پنجاب شہر کی مختلف تجارتی تنظیموں نے اپنے پختون ارکان سے پولیس کے ساتھ تعاون کی جو اپیلیں کیں اُس سے معلوم ہوا کہ واقعی پنجاب میں ایک ‘اینٹی پختون’ پولیس مہم جاری ہے۔ اسلام آباد میں  بھی کچھ لوگوں کو پولیس کی طرف سے مشکوک قرار دئیے جانے کی خبریں گردش میں رہیں اور سوشل میڈیا نے “پختون پروفائلنگ” کے تحت زبردست ردعمل کا مظاہر ہ کیا اور اِسے 1971ء میں بنگالیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کیساتھ تشبیہ دی گئی۔

پاکستانی معاشرے میں  کیا کسی قوم کے بارے میں کوئی واضح پروفائلنگ کی سوچ موجود ہے؟ اس کا جواب ہر کوئی اپنے انداز میں دے سکتا ہے لیکن اس سے مکمل انکار کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ ہاں شائد اِسے وہ شدت حاصل نہیں جتنی شدت شمالی اور جنوبی بھارتیوں کے درمیان نفرت  کو حاصل ہے۔ کراچی کے اُردو بولنے والوں کو اُس کیٹگری میں رکھا جاسکتاہے جنہوں نے نسل پرستی کو اوڑھنابچھونا بنایا، پنجاب کی اشرافیہ نے اپنے خلاف نسل پرستی کے الزامات کو کئی مواقع پر سچ ثابت کردیا ہے  اور حب الوطنی کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال بھی کیا ہے۔

پاکستان میں دہشتگردوں کی جتنی درجہ بندی کی جائے ہر درجے میں ہرنسل اور علاقے کے لوگ دستیاب ہوں گے۔  پاکستا ن میں طالبان کی دہشتگردیوں میں پختونوں کو مرکزیت حاصل تھی لیکن پنجابی طالبان بھی حقیقت تھے، اس طرح پاکستان کو جس چیز نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا وہ فرقہ واریت ہے اور اِس ملک میں فرقہ واریت کا مرکز ہی پنجاب ہے۔

اس طرح دیگر صوبوں کی نسبت پنجاب حکومت کی نااہلیوں کے سبب پاکستان کی زبردست بدنامی ہوئی۔ لاہور میں ایرانی سفیر کا قتل ہماری تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے، لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے کے اثرات آج تک مٹائے نہیں جاسکے۔ حالانکہ اُس واقعے سے چند سال قبل کراچی میں اُس ہوٹل  پر بم کا دھماکہ ہوا تھا جہاں نیوزی لینڈ کی ٹیم ٹھہری ہوئی تھی لیکن اُس کے اثرات اتنے گہرے  ثابت نہیں ہوئے۔

یہ سب تضادات کی علامات ہیں۔ انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں بھی ایسے لوگ ہیں جن کا تعلق مختلف صوبوں سے ہے۔ طالبان کے سب بڑے حامی مرحوم ریٹائرڈ جنرل حمید گُل کا تعلق کسی پختون قبیلے سے نہیں تھا، جماعت اسلامی کے سابق امیر جنہوں نے مرنے والے طالبان کو شہیدکہا اور اِس ملک پر قربان ہونے والے فوجیوں کو شہید نہیں قراردیا تھا بھی پختون نہیں ہے۔ صوفی محمد کو ڈپٹی کمشنر کے دفتر پر ہلہ بولنے اور ریاست کے خلاف اُکسانے پر جیل بھیج دیا گیا جب کہ بجلی کے بِل ، ٹیکس نہ دینے پر اُکسانے اور نافرمانی کا اعلان کرنے والے عمران خان کو کچھ نہ کہا گیا، کراچی میں ایک نجی ٹی وی چینل کے دفتر میں توڑ پھوڑ کرنے کی پاداش میں الطاف حسین کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری کردیا گیا لیکن اسلام آباد میں سرکاری ٹی وی کےدفترپر قبضہ کرنے والے طاہرالقادری کو ہاتھ تک نہیں لگایا گیا۔

یہ اور اس طرح کے کئی ایسے تضادات ہیں جن پر سوشل میڈیا سیخ پا ہے۔ عام لوگ یہ سوال اٹھارہے ہیں کہ ریاست کو واضح پالیسی بنانے کون نہیں دے رہا؟ پنجاب حکومت اب جتنی بھی جتن کرے جو نقصان ہونا تھا وہ ہوکر رہ گیا۔ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے اس بیان کو کس پیرائے میں لیا جائے کہ چُونکہ تمام سہولت کار پختون نکلے تو پولیس کی توجہ اُن کی طرف مبذول ہوگئی۔ یہی معیار ٹھہرا تو کون بچے گا؟  پھر ہمارے پاس یورپ کے سامنے اس دلیل  میں کوئی جان باقی رہتی ہے کہ سارے مسلمان دہشت گرد نہیں؟ پھر تو ڈونلڈ ٹرمپ  اپنی کاروائیوں کیلئے سوفیصد حق بجانب  نہیں ہیں؟ پھر ایک کام کرتے ہیں پاکستان کرکٹ ٹیم  کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے تمام کھلاڑیوں کو گھر بٹھاتے ہیں کہ حالیہ  اور سابقہ تمام سپاٹ فکسنگ کے واقعات کے ملزم تمام کھلاڑیوں کا تعلق پنجاب سے ہے۔ لاہور میں کوئی انٹرنیشنل کرکٹ نہ رکھیں کہ وہاں ایک غیر ملکی ٹیم پر حملہ ہوا تھا۔

Zeal Mobile Reporter

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Share This