Supreme Court Dam Initiative

پاک چائینا اکنامک کوریڈور اور چترال

چترال کے کاشغر کے ساتھ تاریخی تجارتی روابط۔

کاشغر زمانہ قدیم سے ایک بڑے علاقے کا مرکز رہا ہے۔ یہ علاقہ مختلف اوقات میں یا تو خود مختار ریاست رہا یا سلطنت چین کا حصہ۔ اس علاقے کو ہندوکش، قراقرم اور Kuen Lun کے بلند پہاڑی سلسلے برصغیر پاک و ہند سے الگ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان علاقوں کے درمیاں آمد و رفت ہمیشہ نہایت مشکل رہی ہے۔ تاہم ان پہاڑوں کے دروں سے کسی قدر آمد و رفت اور تجارت ہر زمانے میں ہوتی رہی ہے۔ اس تجارت کے تین روٹ زیادہ مستعمل رہے ہیں، جن میں سے ایک سرینیگر لداخ خُتن روٹ، دوسرا گلگت ہنزہ یارقند  روٹ اور تیسرا چترال روٹ ہے۔ ان میں سے چترال روٹ کو نسبتاً مختصر اور کم دشوار ہونے کی وجہ سے ہمیشہ فوقیت  حاصل رہی ہے۔یہ روٹ کاشغر یا یارقند سے شروع ہوکر تاشقرغان کے قریب موجودہ  قراقرم ہائے وے سے الگ ہوتا ہے۔اور پھر مغرب کی سمت تگدم باش پامیر سے ہوتے ہوئے  درۂ وخجیر سے گذر کر افغان علاقے پامیر خورد میں داخل ہوتا ہے۔   آگے یہ روٹ واخان اور بروغیل سے ہوتے ہوئے چترال میں داخل ہوتا ہے۔ 1895 کے بعد انگریزوں نے چترال اور پشاور کے درمیاں راستوں کو بہتر اور نسبتاً محفوظ بنایا تو اس روٹ پر تجارت میں زبردست تیزی آئی۔ تاہم 1930 کی دہائی میں افغان حکومت نے اس تجارت کا رخ اپنے علاقوں  کی طرف موڑنے کے لیے اس پر پابندیاں لگانی شروع کردیں۔ جس کے نتیجے میں اس میں تیزی سے کمی آئی۔ 1949 میں چینی انقلاب کے بعد سرحدوں کو  بند کردیا گیا اور اس طرح اس روٹ پر تجارت ختم ہوگئی۔

پاک چین زمینی راستوں کی بحالی

1950 کی دہائی میں جب پاکستان اور عوامی جمہوریہ چین کے تعلقات کا آغاز ہوا تو اس بات کی ضرورت کو محسوس کیا گیا کہ ان تاریخی زمینی رابطوں کو بحال کیا جائے اور انہیں جدید ٹرانسپورٹ کے قابل بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے قراقرم ہائے وے کا منصوبہ بنایا گیا۔ یہ شاہراہ 1970 کی دہائی میں تیار ہوئی اور اس کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان کچھ تجارت ہوتی رہی۔ لیکن کئی وجوہات کی بناء پر اس تجارت کا حجم بہت کم رہا، جن میں راستے کی دشواری، وقفے وقفے سے اس کی بندش شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ راستہ چین کے جن علاقوں تک  پہنچتا ہے، وہ معاشی طور پر مشرقی علاقوں سے بہت پیچھے ہیں۔

گذشتہ کچھ سالوں سے چین نے اپنے شمال مغربی علاقوں کی تیز رفتار ترقی پر توجہ دیناشروع کیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ وسط ایشیاء کے ملکوں کے ساتھ مل کر ایک اقتصادی زون بنانا چاہتا ہے۔ اس خواہش کو Silk-Route Initiative کا نام دیا گیا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی پاکستان کے راستے سمندر تک رسائی اور مشرق وسطیٰ سے ایندھن کی چین تک رسائی کا منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کو پاکستان کے لیے زیادہ مفید بنانے کے لیے اسے ایک اقتصادی راہداری کی شکل دی گئی ہے جس میں ایک جدید بندرگاہ، کئی شاہراہیں، ریل کا نظام اور ان کے ساتھ ساتھ صنعتی پیداوار کے زون شامل ہیں۔ تجویز یہ ہے کہ اس راہداری کے کئی متوازی  روٹس ہوں جو پاکستان کے مختلف علاقوں سے گذریں تاکہ ان کے فوائد تمام علاقوں تک پہنچ سکیں۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ چینی سرحد سے لیکر حسن ابدال تک کے 887 کلومیڑ طویل حصہ صرف ایک ہی روٹ پر مشتمل ہے۔ حسن ابدال سے گوادر تک کے روٹس کے بارے میں ملک میں بہت زیادہ اختلاف رائے پائی جاتی ہے اور سیاسی طور پر بھی اس کا اظہار ہوتا رہتا ہے لیکن حسن ابدال اور خنجراب  کے درمیان  روٹ پر ابھی تک کوئی مباحثہ کسی فورم پر نہیں ہوا ہے۔

گلگت روٹ کے متبادل کی ضرورت۔

مندرجہ ذیل وجوہات کی بناء پر گلگت روٹ کے ساتھ ساتھ ایک متبادل روٹ کی موجودگی اس منصوبے کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔

  • گلگت روٹ دنیا کے دشوار ترین علاقے سے گذرتی ہے۔ اس راستے پر لینڈ سلائڈنگ بہت زیادہ ہوتی ہے اور ہر موسم میں راستہ بند ہونے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
  • لاین آف کنٹرال کے قریب سے گذرنے کی وجہ سے کشیدہ صورت حال میں اس روٹ کے متبادل روٹ کی ضرورت رہے گی۔
  • سی پیک کے مکمل طور پر اوپریشنل ہونے کی صورت میں شاہراہ قراقرم  پر ٹریفک کا دباؤ اتنا بڑھ جائے گا کہ دو لین پر مشتمل شاہراہ قراقرم اس کے لیے ناکافی ثابت ہوگا۔ ایسی صورت میں ایک متبادل سڑک اس پر ٹریفک کے دباو کو کم کرنے میں مدد دے گی۔
  • چترال اور دیر میں سے بین القوامی تجارت کے گذرنے سے ان پس ماندہ علاقوں میں ترقی کی رفتار تیز کرنے میں مدد ملے گی۔

اگر کاشغر، واخان چترال روٹ کو ترقی دی جائے تو افغانستان کے دور دراز پسماندہ علاقے کو بھی ترقی کے ثمرات سے فائدہ ہوگا۔ نیز افغانستان کو اس منصوبے کے اندر لانے سے  اس ملک میں استحکام پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ اسی روٹ کو بڑی آسانی سے تاجکستان کے ساتھ منسلک کیا جاسکتا ہے۔

   مجوزہ چترال روٹ کیا ہے؟

گلگت سے گذرنے والے راستے کا ایک ہی ممکن روٹ ہے یعنی خنحراب، ہنزہ، گلگت اور انڈس ویلی کا راستہ۔ لیکن چترال سےہوکر کئی ممکنہ راستے کاشغر تک پہنچ سکتے ہیں۔ جو یہ ہیں:

  1. گلگت شندور چترال راستہ: گلگت اور چترال کے درمیان کل فاصلہ تقریباً 450  کلومیٹر ہے۔ اس پر ایک سڑک موجود ہے جس کا غذر سے بونی تک کا  حصہ کچا ہے۔ اس راستے پر ہر قسم کی گاڑیوں کی آمد ورفت ہوتی ہے۔ صرف سردیوں میں شندور (بلندی12200  فٹ)  پر برف کی وجہ سے ٹریفک معطل ہوجاتی ہے۔ معمولی کوشش سے اسے آل ویدر روڈ بنایا جاسکتا ہے۔ چترال اور باقی ملک کے درمیان لواری ٹنل کی تعمیر کے نتیجے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں۔ اس سڑک کی صرف توسیع کی ضرورت ہے۔ اس پر کسی بڑے پل کی تعمیر کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ سارا راستہ دریا کے ایک ہی کنارے پر ہے۔ اس کے علاوہ اس پر لینڈ سلائڈگ کا کوئی خطرہ نہیں۔ اس سڑک کی نہ صرف چترال بلکہ ضلع غذر کے لیے بہت اہمیت ہے، کیونکہ اس ضلع کے لیےشاہراہ قراقرم کی نسبت یہ نہایت قریب پڑے گا۔
  2. کاشغر واخان چترال راستہ: یہ ایک تاریخی تجارتی راستہ ہے۔ بیسویں صدی کے وسط تک اس پر کافی تجارت ہوتی تھی۔ اس کے بعد جیو پولیٹیکل تبدیلیوں کے نتیجے میں یہ راستہ بند ہوگیا ہے۔ چین کی طرف سے سرحد یعنی درہ وخجیر تک سڑک موجود ہے۔ البتہ چینی سرحد سے بروغیل کی پاکستانی سرحد تک کے 120 کلومیٹر افغان علاقے میں کسی سڑک کا وجود نہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ Silk Route Initiative اور سی پیک میں افغانستان شامل ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر اس راستے پر سڑک تعمیر کی جائے تو افغانستان بھی اس منصوبے میں شامل ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ اس سڑک کو بڑی آسانی سے تاجکستان سے منسلک کیا جاسکتا ہے۔
  3. کاشغر واخان بدخشان دوراہ کا راستہ: یہ راستہ بھی تاریخی طور پر نہایت اہم رہا ہے۔ اس منصوبے میں افغانستان کی شمولیت کی صورت میں یہ ایک متبادل راستے کے طور پر دستیاب ہوسکتا ہے۔تاجکستان بھی اس راستے کو بغیر کسی اضافی انفرا سٹکچر تعمیر کیے استعمال کرسکتا ہے۔ اس روٹ کے بیشتر حصے پر سڑک موجود ہے اور اسے بہتر بنانے کی ضرورت پڑے گی۔

مستقبل میں ان تمام راستوں پر سڑکوں کی تعمیر اور ان کو بین الاقوامی  امد و رفت اور تجارت کے لیے کھولنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ہماری حکومت کو طویل مدتی منصوبہ بندی میں ان سب کو شامل کرنا چاہیے۔ تاہم وقتی طور پر گلگت چترال سڑک رابطے کو فوری طور پر سی پیک منصوبے میں شامل کیا جائے تاکہ شاہراہ قراقرم کا ایک متوازی روٹ دستیاب رہے۔ نیر اس نئے روٹ پر واقع غذر، چترال، دیر بالا، دیر زیریں اور ملاکنڈ کے  اضلاع بھی اس منصوبے کے اقتصادی فوائد میں حصہ دار ہوں۔

Zeal Mobile Reporter

3 تبصرے

  1. پاک چینا اکنامک کوریڈور کے حوالے سے ایک پر مغز مضمون۔ پروفیسر صاحب کی بہت ہی عمدہ اور معلوماتی تخلیق
  2. Shamsu nazar
    بہترین CPEC کے بارے میں اپ ڈیٹ معلومات دیئے گئے ہیں ۔ شکریہ پروفیسر ممتاز صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Share This