صالح ولی آزاد

صالح ولی آزاد

غزل موقوف ایک در پہ نہیں بے کلی کی شام ہر درد کو کھٹکھٹائے گی یہ زندگی کی شام دو دن کی مستعار گھڑی یوں بسر ہوئی اک بے کلی کی صبح تھی اک بے بسی کی شام ہو تیرا گزر جس گلی  سے دفعتاً کبھی مثلِ سحر ہے مرے لیے اُس گلی کی شام مے خانہ و زندان  و ...

مزید پڑھئے