کالم

ہم آزاد ہیں!!

ہم آزاد ہیں!! آباؤ اجداد کے خون، بہو بیٹیوں کی عصمت ، جوانوں کی اسیری، عزیزو اقارب کی جدائی، معصوموں کی بہیمانہ قتل ، اکابریں کی تذلیل اور خواہشات کی قربانی پر حاصل کی گئی ملک کو لوٹنے کے لیے۔۔۔ ہم آزاد ہیں!! موسمی مینڈک بننے ، سبز باغ دکھانے ، آئین و قانون کو پیروں تلے روندنے ،ذاتی مفاد …

مزید پڑھئے

خلائی دور یادور جاہلیت؟

چترال سے اسلام آباد جانے والی جہاز کا حادثہ شاید چترال کی تاریخ کا بدترین حادثہ تھا جس کی بازگشت کئی دنوں تک قومی اور بین لاقوامی میڈیا پر گونجتی رہی۔تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ اس حادثے کے ذمہ داروں کا تعین آج تک نہیں ہوسکااورحادثے کی وجہ تین مہینے بعد بھی عوام کے لیے ایک معمہ ہے(گورنمنٹ اور …

مزید پڑھئے

تورکہو روڈ ،عوام اور ممبران

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ موجودہ وقت میں تورکہو روڈ اہلیانِ تورکہو کے لیے زندگی اور موت کا مسٔلہ ہے بلاشبہ اور گزشتہ کئی دہائیوں سے تورکھو کے باسیوں نے ہر جگہ اور ہر فورم پہ اس کو اٹھا یا لیکن ستم ظریفی ہے سابقہ اور موجودہ منتخب نمائندوں نےاس ایشو کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور اس …

مزید پڑھئے

چترال، کھو اور چترالی

پاکستان کے انتہائی شمال میں واقع صوبہ نما ضلع چترال کا کل رقبہ ساڑھے چودہ ہزار مربع کلومیٹر ہے”کھو” یہاں کی سب سے بڑی لسانی نسل ہے جس کی زبان “کھوار”کہلاتی ہے اس زبان کو باہر کے علاقوں میں “چترالی” کے نام سے بھی  جانا جاتاہے حالانکہ چترالی نہ تو کسی مخصوص قومیت کا نام ہے اور نہ کسی زبان …

مزید پڑھئے

شاہانہ دربدری

دنیا کے نشیب و فراز سے دوچار ہونا ہر انسان کے مقدر کا حصہ ہے ۔ گردشِ ایّام انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں۔ہٹلر،مسولینی،شاہجہاں ،بہادر شاہ ظفر اور حال ہی کے بٹھو صاحب مرحوم کا انجام ایسے واقعات کی کڑی ہیں۔بہت سے نامور لوگ پناہ گزینوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔افغانستان کے شاہ ظاہر شاہ ، ایران …

مزید پڑھئے

تاریخ چترال کے بکھرے اوراق ،ایک تنقیدی جائزہ (تیسری قسط)

پچھلے کالم میں نامورمورخ ومحقق پروفیسر اسرارالدین صاحب  کی شائع ہونے والی کتاب ’’تاریخ چترال کے بکھرے اوراق‘‘ میں موجود مواد اور ابواب کا مختصراً جائزہ لینے کی کوشش کی  گئی تھی آج کے کالم میں اسی کتاب کا تنقیدی جائزہ لینے کی کوشش کی جائے گی۔ دورحاضر میں جو بھی کتاب شائع ہوتی ہے تو کتاب کے اوپر مصنف …

مزید پڑھئے

موبائل فون ، انٹرنیٹ اور ہماری ذمہ داریاں

ایشیا ء سے لےکر امریکہ اور انٹارٹیکا سے لے کر اسٹریلیا تک پھیلی ہوئی دنیا ء کو سمیٹ کر گلوبل اسٹریٹ بنانے کا سہرا ذرائع ابلاغ ہی کے سر ہے۔ جہاں ضلع کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک خبر پہنچنے میں زمانے لگتے تھے اور ہمارے ہاں تو  ’’میر کھنی خبر‘‘ زبان زد عام تھا ،وہاں ایک بر اعظم …

مزید پڑھئے

چترال۔ شرح تعلیم بہترین، معیارتعلیم پر سوالیہ نشان؟؟

پاکستان میں شرح تعلیم شرم ناک حد تک کم ہے جس کا ذکر نہ ہی کرے تو بہتر۔محض ۵۷ فیصد آبادی بمشکل تعلیم یافتہ ہے اور تعلیم یافتہ سے مراد وہ لوگ ہیں جوصرف قومی زبان میں اپنا نام لکھ سکتے ہوں۔اس ملک کے مسائل بھی ازل سے یکساں ہیں اور سالہاسال سے ہم گھوم پھر کر اسی جگہ آکھڑے …

مزید پڑھئے

2018 کےانتخابات اور عمران خان کے ممکنہ دو بیانات

اگر 2018کے عام انتخابات صاف اور شفاف منعقد نہ ہوئے جیسا کہ اس بات کا روشن امکان موجود ہے‘ توعمران خان کے تیسرے بیان کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔اُن کا پہلاممکنہ بیان یہ ہو سکتا ہے کہ : میرے  عزیزپا کستا نیو! 2013کے انتخابات میں خیبر پختونخوا کے عوام نے یعنی آپ نے ہم پر …

مزید پڑھئے

تاریخ چترال کے بکھرے اوراق دوسری قسط

پروفیسر اسرار الدین صاحب کی کتاب “تاریخ چترال کے بکھرے اوراق ” کا چھٹا باب “درد یا پساچہ زبانیں “ہیں جس میں نامور ماہرلسانیا ت سرجارج گرئیر سن کی تحقیق سے استفادہ کیاگیا ہے اس باب میں چترال اور گلگت بلتستان میں بولی جانے والی زبانوں کے ماخذات نیز ان کے ایک دوسرے سے مشابہات پر بھی روشنی ڈالی گئی …

مزید پڑھئے