کالم

ماچس ہوگی آپ کے پاس؟؟

برٹرینڈرسل سے منسوب ایک قول ہے۔”میں چاہتا ہوں کہ میری نگاہ اللہ کی نگاہ جیسی ہوجائے۔نہ لاگ رہے نہ لگاؤ۔“بظاہر ایسا ہونا ممکن نہیں۔کیونکہ انسان پسند نا پسند کا مجموعہ ہے۔مگر ہم میں سے کئی ایسے ہیں جو اس اُلوہی صفت سے متصف ہونے کی خواہش ضرور رکھتے ہیں۔ اس دور کو سوشل میڈیا خاص کر فیس بُک(کتابِ چہرہ) سے ...

مزید پڑھئے

کل اور آج

ہونٹوں  میں مسکراہٹیں،  دل پانی سے زیادہ نرم اور شیشے سے صاف باتوں میں مٹھاس خوف میں غالب یہ وہی مسلمان تھے  جو چودہ سو سال پہلے گزر چکے ہیں۔ آپکے زندگیاں آج پوری انسانیت کے لئے نمونہ ہیں فضیلت فرشتوں سے آگے حکمرانوں  میں عادل۔ جب اخلاق کے میدان میں آتے تو پورا دنیا کو فتح کرلیتے اور ہتھیار ...

مزید پڑھئے

امید لکھیں ! امید بولیں ! امید سنیں !

جی ہاں !! امید لکھیں ! امید بولیں ! امید سنیں !امیدبوئیں!  امید اگائیں!!  پر امید کاٹیں کبھی نہ ۔ فصلوں کی ان گنت انواع میں سے کسی بھی نوع کی فصل ایسی نہیں ہوگی کہ جو کاٹنے کی نہ ہو ۔ کیوں کہ  اُمید کی فصل ایسی فصل ہے جسے روشنی ہوا پانی دیتے جانا چاہئے ۔ لفظ “چاہیے” ...

مزید پڑھئے

موسم گرما، مقابلہ مضمون نگاری اور ہماری داستان غم!! دوسری اورآخری قسط

بولے،’’ لکھ رہے ہو؟ اس گرمی میں ؟ باولے ہو گئے ہو کیا؟‘‘ ہم نے کہا  ،’’اجی حضرت کمال کرتے ہیں، لکھنے کا موسم سے کیا لینا دینا ‘‘۔ اگر چہ پسینے میں ترانگلیوں  سے بار بار پھسلتا ہوا قلم خود گواہی دے رہا تھا کہ ہم جو کہہ رہے ہیں وہ کچھ زیادہ صیح نہیں ہے، مگر  اب پھنس ...

مزید پڑھئے

پاکستان کے دو مثالی وزرائے اعظم

چودھری محمد علی گورنر جنرل غلام محمد کی سبکدوشی کے بعد میجر جنرل سکندرمرزا اگست ۱۹۵۵ میں پاکستان کے گورنر جنرل بنے ۔پانچ روز بعد ۱۱-اگست ۱۹۵۵ کو مسلملیگ اور یونائیڈفرنٹ کی کولیشن سے چودھری محمد علی نے وزارت اعظمیٰ کا حلف اٹھایا۔شیر بنگال مولوی اے-کے فضل حق ان کی کابینہ میں وزیر داخلہ تھے ۔وزیر اعظم کے طورپر چودھری ...

مزید پڑھئے

چترال پرانے بازار کی حالات زار

Nayab Article

چترال: ٹاؤن چترال میں پرانے بازارکے ساتھ بائی پاس روڈ بننے کے بعد سوتیلی ماں کا سا سلوک کیا جارہا ہے۔ پہلے تجاوزات کے خلاف ایکشن کے نام پر اس کا حلیہ بگاڑ دیا گیا۔ تو بعد میں ون وے کے نام پر پرانے بازار کے دکانداروں کے منہ سے نوالہ چھین  لی گئی۔ اور اس بازار کو لوگ پارکنگ ...

مزید پڑھئے

خوشبو کا مسافر

جب بھی ان سے ملتا یا فون پہ بات ہوتی میں شروع ہی میں یہ کہتا ” اے سر نُما پاچورا” اور وہ فوراً سمجھ جاتے کہ میرا اشارہ اس کے ان خیالی پلاؤ کی طرف ہے جو کہیں پہ بیٹھ کر وہ طریقہ بناتے اور ہم پکاتے لیکن کھانے کی نوبت نہ آتی۔ کھبی کسی سرسبز میدان میں مشاعرے ...

مزید پڑھئے

ہاں تو کیسا تھا خالد بن ولی(مرحوم)

آہ!میکدہ دھیرے دھیرے اپنی رونق کھو رہا ہے۔بادہ خوار ایک ایک کرکے خاموشی سے کنارہ کش ہوئے جا رہے ہیں۔زندگی اپنی تمام تر مسرتوں کے باوجود سر بہ زانو ہے کہ اس کے چہرے سے کچھ تارے دست قضا نے نوچ لیے ہیں۔زندگی اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے باوجود ماتم کناں ہے۔ کہنے کو تو خالد بھائی چترال کے ...

مزید پڑھئے

مری تصویر رکھ لینا تمہارے کام آئے گی

آہ خالد ! خالد بن ولی صاحب چترال کے علاقہ برنس کے ایک نامور خسروے قبیلے کا چشم و چراغ تھا، خالد بن ولی، انجمن ترقی کھوار کے سابق مرکزی صدر جناب عبدالولی خان عابد کا سب سے بڑا بیٹا تھا، 16 فروری 1984 کو برنس میں آنکھ کھولی ،میٹرک تک کی تعلیم سایورج پبلک اسکول چترال سے حاصل کرنے ...

مزید پڑھئے

میرا گاوں بونی

رقبے کے لحاظ سے  چترال صوبہ خبیر پختونخواہ کا سب سے بڑا ضلع ہے جو دو تحصیلوں “تحصیل چترال “(لوئر چترال) اور “تحصیل مستوج ”  ( اپر چترال)  پر مشتمل ہے ۔ بونی تحصیل مستوج کا صدر مقام ہے جو  چترال خاص سے ۷۵ کلومیٹر کے فاصلے پر  چترال شندور روڈ کے دائیں طرف واقع  ہے۔ بونی تقریبا  ۱۶۰۰ گھرانےاور ...

مزید پڑھئے