کالم

خونِ جگر ہونے تک

متحدہ ہندوستان کے بٹوارے کے بعد پاکستان میں جو ناول تخلیق ہوئے ان میں فضل کریم فاضلی کے ناول خونِ جگر ہونے تک کو خاص مقام حاصل ہے۔ اس کی کہانی تقسیم سے پہلے کے بنگال کے غریب دیہاتی زندگی کے اردگرد گھومتی ہے۔ یہ دوسری جنگِ عظیم کے بنگالی دیہاتی معاشرے، قحط، مصائب اور سیاسی اور نظریاتی چپقلشوں کی ...

مزید پڑھئے

جشن ِ آزادی اور اردو ادب

یہ بات تو روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ تصویر کے ہمیشہ دو رخ ہوتے ہیں، ایک روشن اور چمک دار کہ  جس کو سب آئیڈلائز کرتے ہیں اور اسے ہر کسی کو دکھانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے جب کہ اس کے مقابلے میں اگر دوسری جانب کا جائزہ لیا جائے تو وہ پہلے کے مقابلے میں ...

مزید پڑھئے

انتظامی سربراہان اور عوامی نمائندوں کے نام کھلا خط

اپر چترال خلائی ضلع کے محترم ڈی سی صاحب ڈی سی لوئیر چترال ہمارے پیارے ضلع ناظم فرض شناس ڈی ایچ او صاحب بہت ہی فعال ممبران قومی و صوبائی اسمبلی  مولانا عبد الاکبرچترالی صاحب میرے پیارے آرام طلب ایم پی اے ہدایت الرحمن صاحب آپ سب حضرات کی سماعتوں کو چھیڑنے کی کوشش کر رہا ہوں شاید کسی کو ...

مزید پڑھئے

قدرتی آفت اورانسانی عذاب

مرشد آج غم زدہ ہے۔ وہ غموں سے نڈھال ہے ۔ایک ساتھ تین غموں کا قصہ چھیڑرہاہے۔ پہلا غم یہ ہے کہ ازغور گولین میں سیلاب آیا۔ باکھہ نامی گاؤں کو نقصان پہنچا۔ دوسرا غم یہ ہے کہ حکوت ٹس سے مس نہ ہوئی۔تیسرا غم یہ ہے کہ لوگوں نے مصیبت زدہ لوگوں کو پانچ کلوآٹا،۲ کلوگھی اور ۲ کلو ...

مزید پڑھئے

نتیجہ

مرشد کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ نیتجہ آنے کے بعددل گرفتہ،غمگین ، اور ذہنی تناؤ سے دوچار کمرے سے باہر نہیں آتا۔موبائل بند ہے۔ دوستوں سے رابطہ نہیں کرتا۔ میں نے کہامرشد نے امتحان نہیں دیا نیتجہ آنے پر اس کو کیا پریشانی ہے؟ پھر میں نے سوچاآج مرشدسے ملنے اس کے گھرجانا چاہیئےغالب نے بھی کہا تھا ...

مزید پڑھئے

نظم و نسق کا ماتم

مُرشد کےکمرے میں نایاب اور نادر تصویریں محفوظ ہیں۔ مگر وہ یہ تصویریں کسی کو نہیں دیتا ، بعض تصویریں نمائش میں رکھنے کے قابل ہیں مثلا ایک تصویر میں پوسٹر دیکھائے گئے ہیں۔ تین رنگو ں کا پوسٹر ہے جلی حروف میں لکھا ہے “تعلیم ہماری پہلی ترجیح ہے” ۔ اس کے برابر میں دوسرا پوسٹر ہے جس میں ...

مزید پڑھئے

نظم–مجھے یہ ُگرنہیں آتے 

مجھے یہ ُگر نہیں آتا کسی کے کِذبِ عیّاں کو صداقت کا گماں دے کر حق میں ناحق بیاں دے کر گویا اپنا ایماں دے کر کوٸی مفاد حاصل کروں غرض و لالچ کے تہِ دم اصولوں کو بسمل کروں مجھے یہ ُگر نہیں آتا مجھے یہ ُگر نہیں آتا کہ جو انسان کی تذلیل کو اپنا شُغل سمجھتا ہے ...

مزید پڑھئے

ہو جس سے اختلاف، اسے مار ڈالیئے!

علی شریعتی صاحب سے کسی دوست نے دریافت کیا کہ وہ تمھارے مرغے نے آج صبح بانگ نہیں دی؟ وجہ کیا ہے؟ شریعتی صاحب فرمانے لگے وہ پڑوسیوں نے شکایت کی ، کہ وہ صبح صبح جگا کر انھیں پریشان کرتا ہے۔ اس لیے ہم نے اسے ذبح کر دیا۔ جس طرح کے حالات ہمارے دور حاضر کے ہیں، اس ...

مزید پڑھئے

ہم نہیں سمجھیں گے

مشاعرہ تہوار ہے یا یوں سمجھ لیں کہ مشاعرہ میلہ ہے ،جس میں طرح طرح کے اشعار کی دکانیں لگتی ہیں اور شعرا خواتين و حضرات مختلف دادوں کے دام اپنے اپنے کلام سامعین کے گوش گزار کرتے اور بعد از خاتمہٕ مال اپنی چادریں سمیٹے اٹھ اٹھ خود بھی سننے والوں میں آ بیٹھتے ہیں۔ اپنے اپنے ذوق مطابق ...

مزید پڑھئے

ہیروپرستی اور سماج

سماج انسان کے لیے  ہوتا ہے اور انسان سماج کے لیے نہیں ہوتا۔  لیکن ہمارے سیاق میں سماج نے انسان کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا  ہے ۔ انسانی سماج میں گوناگونی ہوتی ہے، سماج ایک تکثیری تصور کا آئینہ دار ہے، لیکن ہیرو کا تصور اس مختلیفیت کو رد کرکے اجتماعی شعور کو ایک زاویئے میں پرونا ...

مزید پڑھئے