کالم

ہیروپرستی اور سماج

سماج انسان کے لیے  ہوتا ہے اور انسان سماج کے لیے نہیں ہوتا۔  لیکن ہمارے سیاق میں سماج نے انسان کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا  ہے ۔ انسانی سماج میں گوناگونی ہوتی ہے، سماج ایک تکثیری تصور کا آئینہ دار ہے، لیکن ہیرو کا تصور اس مختلیفیت کو رد کرکے اجتماعی شعور کو ایک زاویئے میں پرونا ...

مزید پڑھئے

تورکھو کی پہلی قابل فخر قانون دان بیٹی

معاشرے میں عورت اور مرد گاڑی کے دو پہیوں کی مانند ہیں جن میں سے کسی ایک کی بھی احساس ذمہ داری اور فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی نظام زندگی کو درہم برہم کر سکتی ہے۔ بہترین معاشرے کے وجود کیلیے دونوں کا حصول علم سے وابستگی ازحد ضروری اور لازمی ہے۔جس کے لیے محنت اور لگن کی بنیادی شرط ...

مزید پڑھئے

” آپ کہتے ہیں تو زنجیر ہلا دیتے ہیں”

گذشتہ دنوں ساہیوال میں ہونے والے واقعے نے سوچوں کے محور کو ایسے دلدل میں دکھیلا کہ اس میں دھنستا چلا گیا کہ آخر ایسے واقعات تسلسل سے رونما ہوتے کیوں ہیں؟آپ ذرا ماضی میں  کا جائزہ لیں ۔ آپ کو شازیب پیرزادہ، نقیب اللہ محسود، زینب، اور جانے کتنے ان گنت واقعات ہیں جو اس معاشرے میں رونما ہوتے ...

مزید پڑھئے

چترال سے باہر چترالی طالبات کے مسائل

انسانی تاریخ میں عورت کو صنف نازک کا نام دے کر کم تر اور حقیر سمجھا جاتا رہا، کبھی عورت کے وجود کو ہی معاشرے پر بوجھ سمجھ کے مٹانے کی کوشش کی گئی۔ کبھی ناکردہ گناہوں کا بوجھ صنف نازک کے ناتواں کندھوں پہ ڈال کے اسے سولی پہ چڑھانے کی کوشش کی گئی۔ کبھی عورت کو اپنی تفریح ...

مزید پڑھئے

” فنی تعلیم اور نظرانداز ضلع “

اس امر سے بھلا کسے کیسے انکار ہو سکتا ہے کہ نوجوان کسی بھی ملک،قوم، اور معاشرے کا انتہائی اہم اثاثہ ہیں۔ دنیا میں وہی اقوام معاشرے ریاستیں حتٰی کہ افراد کے وہ گروہ بھی کامیاب رہتے ہیں جو نئی نسل کی تعلیم وتربیّت دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق کرتے ہیں ۔عصری علوم میں فقط رسمی تعلیم ہی شامل ...

مزید پڑھئے

مدرسہ،کھو ثقافت اور کالاش ایم پی اے

19 جنوری اتوار کے روز اپنے دوست عطاءالرحمن عدیم اور عنایت الرحمن عزیز کے ہمراہ مدرسہ عثمانیہ شاخ گلشن عمر جانے کا اتفاق ہوا۔ مدرسہ پشاور سے کافی فاصلے پر تھا، پشاور میں کچھ کام بھی تھے اس لیے جلدی واپسی کا ارادہ تھا۔ مدرسے میں آرٹس اور فوڈ فیسٹیول جاری تھا۔ پتہ چلا کہ مذکورہ مدرسے میں سالانہ یا ...

مزید پڑھئے

”پیپلز پارٹی کا احتساب “

ہم نے جب سے شعور کی آنکھ کھولی تب سے سیاسی افق پر کوئی ایسا سورج نمودار ہوتا نہیں دیکھا جو اپنے جلو میں اس قوم پر آزمائش لے کر طلوع نہ ہوا ہو۔ گزشتہ چند عرصہ سے ہمارے ملکی منظرنامے پر احتسابی نعرے اور احتسابی سیاست کا غلغلہ کچھ اس آہنگ سے بلند کیاگیا کہ اعلیٰ عدلیہ اور نیب ...

مزید پڑھئے

کرپشن کا منہ بولتا ثبوت

جی ہاں کرپشن یا بد دیانتی منہ پھاڑ کر پکارتی ہے کہ ہے کوئی دیکھنے والی آنکھ اور سمجھنے والا عقل جو ادھرتوجہ دے، مگر ہم یہ آواز سن نہیں سکتے ہیں ، کرپشن کو دیکھ نہیں سکتے ہیں اور ہماری عقل اس کو سمجھنے سے عاری ہے۔ یہ کوئی جاد و نہیں ہےیا کسی نے منتر نہیں پڑھا ہے ...

مزید پڑھئے

“نگاہ آنکھوں سے اوجھل ہے دلوں سے نہیں”۔۔

نگاہ صاحب سے ملاقات مقالے کی ضروریات اور معاون مواد کی فراہمی کے سلسلے میں ہوئی تھی لیکن ان سے ملنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ نگاہ صاحب صرف میری تعلیمی ضروریات پوری نہیں کی بلکہ میری ذہنی، شعری، ادبی، تاریخی اور سب سے بڑھ کر میری اخلاقی  تربیت  بھی پوری  طرح سے کرکے بھیجا۔ بہت پہلے کی بات ...

مزید پڑھئے

نگاہ مرحوم واقعی نگاہ تھے !

معروف ماہر تعلیم کھو تہذیب و ثقافت کے امین مایہ ناز محقق ،مصنف اور مترجم محترم مولا نگاہ صاحب اچانک ہمیں داغ مفارقت دے گئے اگرچہ نگاہ صاحب گزشتہ ایک سال سے جان لیوا مرض میں مبتلا تھے تاہم انہوں نے اپنے دوستوں رشتہ داروں اور عزیز و اقارب کو اس موذی مرض کے بارے ہمیشہ خوش فہمی میں رکھا ...

مزید پڑھئے