داغ داغ اُجالا

کیا AKDN کے پاس آلہ دین کا چراغ ہے؟

موجودہ دور میں اگر کسی کے پاس ایک سمارٹ فون، دو چار جملے جوڑنے کے ہنر کیساتھ ساتھ فتنہ انگیز دماغ ہو تو وہ سوشل میڈیا کے زریعے پیالی میں اچھا خاصہ طوفان اٹھا سکتا ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے بروغل کا ایک صاحب اپنے علاقے کے مسائل کا بین کرتے ہوئے سوشل میڈیا کا آسمان سر پر اٹھا رکھا ...

مزید پڑھئے

آپ بےشک فیمینسٹ نہ بنیں مگر!

ہم اس بات پر بہت سیخ پا ہیں کہ مغرب اسلام کے نام پر دہشتگردی کا مرتکب بننے والوں کو لیکر پورے عالمِ اسلام کے بارے میں منفی رائے قائم کر رہا ہے۔ مغرب کا یہ رویہ واقعی میں مبنی بر انصاف نہیں ہے۔ اسی مثال سے سمجھنے کی کوشش کریں کہ اگر عورت مارچ کی مخالفت کی وجہ محض ...

مزید پڑھئے

کنک کے چند دانے، ہَری کوکھ اور اُمید کی اذان

اردو ادب میں اگر دس بہترین ناولوں کی فہرست ترتیب دی جائے تو مستنصر حسین تارڑ کا ناول “بہاؤ” کو بلا جھجھک اس میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ “بہاؤ” کی عظمت کی دو وجوہات ہیں۔ اول ناول کی کہانی ہے جو ہزاروں سال قبل کی وادیِ سندھ اور اس کی تہذیب کے گرد گھومتی ہے۔ دوسری وجہ اس کا نہایت ...

مزید پڑھئے

“مجدد العصر” ہمارے مولانا صاحب دامت برکاتہم

کسے خبر تھی کہ مدینہ و نجف، سمرقند و بخارا اور بغداد و دمشق سے کوسوں دُور صدیوں بعد چترال سے ایک مجدد اور مصلح ابھرے گا جو مسلمانانِ ہند کے ڈولتے ڈوبتے اور چھید بھرے سفینے کو کفر کے بھنور اور طوفان سے بچاکر پار لگانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ گو کہ امت کی واماندگی و خستگی میں اس ...

مزید پڑھئے

“تماشائے اہلِ “حرم “دیکھتے ہیں”

سعودی عرب کا ریکارڈ کھول کر دیکھئے۔ اس ملک میں ساٹھ کی دہائی کے آخر میں پہلی بار بچیوں نے اسکول میں قدم رکھا۔ (اسی سال روس لائیکا نامی اپنی کتیا خلا میں بیچ چکا تھا)۔ عورتوں کو پہلا شناختی کارڈ 2001ء میں جاری کیا گیا۔ کابینہ میں کسی عورت کو جگہ ملے محض 10 سال گزرے ہیں۔ سعودی عرب ...

مزید پڑھئے

خونِ جگر ہونے تک

متحدہ ہندوستان کے بٹوارے کے بعد پاکستان میں جو ناول تخلیق ہوئے ان میں فضل کریم فاضلی کے ناول خونِ جگر ہونے تک کو خاص مقام حاصل ہے۔ اس کی کہانی تقسیم سے پہلے کے بنگال کے غریب دیہاتی زندگی کے اردگرد گھومتی ہے۔ یہ دوسری جنگِ عظیم کے بنگالی دیہاتی معاشرے، قحط، مصائب اور سیاسی اور نظریاتی چپقلشوں کی ...

مزید پڑھئے