روزانہ ارکائیوز

کیا پھر کسی حادثے کا انتظار کریں؟؟

ہمارے ملک میں جب بھی کوئی بڑا حادثہ رونما ہوتا ہے تو حکمرانوں سے لیکر عوام تک ہر خاص و عام مغموم نظر آتا ہے اور ہر زبان پر ہائے افسوس یا صدافسوس کی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔ حکومت ایسے واقعات اور سانحات کو روکنے کےلیے مختلف تدابیرکا اعلان کرتی ہے۔ واقعہ اگر دہشت گردی کا ہو تو دہشت گردوں ...

مزید پڑھئے

نیا زمانہ نئی صبح و شام پیدا کر

ہر شخص کا ایک ذاتی اور مخصوص نیا سال ہوتاہے۔نہ صرف کسی شخص کا بلکہ ہر قوم کا نیا سال مختلف ہوتا ہے۔رائج الوقت کیلنڈرچونکہ عیسوی ہے لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ ساکنان ِیورپ بڑے جوش وخروش سے نئے سال کو مناتے ہیں۔رات کے بارہ بجتے ہی آتش بازی سے فضا رنگوں اور روشنیؤ ں سے جگمگا اٹھتی ہے اور ...

مزید پڑھئے

دفاتر میں طویل عرصے تک لگاتار کام کرنابے شمار امراض کو دعوت دیتا ہے

ایک رپورٹ کے مطابق اب یہ بات حقیقت کا روپ دھار چکی ہے کہ ہر گھنٹے کے کام کے بعد 5 منٹ تک چہل قدمی کرنا توانائی کو برقرار اور بیماریوں کو دور بھگاتا ہے۔ اب یہ دعوی حقیقت کا روپ اختیار کر گیا ہے کہ دفاتر میں 8 گھنٹے مسلسل بیٹھا رہنا صحت کے لیے نہایت مضر ہوتا ہے ...

مزید پڑھئے

AVDPکا کالاش ویلی میں ترقیاتی منصوبوں خاص کرکے کالاش لوک گیتوں اور ضرب الامثال کو محفوظ بنانے پر اطمینان کا اظہار

چترال ( نمایندہ زیل) یونین کونسل ایون کی تعمیر و ترقی کیلئے سرگرم عمل مقامی معاون ادارہ AVDPکے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل پر انتہائی خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ اور ان منصوبوں کیلئے فنڈ فراہم کرنے پر پاکستان غربت مکاؤ فنڈ ، کنسرن ورلڈ وائڈ اور یو ایس ایڈ کا شکریہ ادا کیا ...

مزید پڑھئے

چترال یوتھ فورم اسلام آباد کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ سی ای او آغا خان فاؤنڈیشن اظہر اقبال

اسلام آباد(نمائند زیل) چترال یوتھ فورم اسلام آبادنے نیا سال اسلام آباد میں مقیم چترالی پروفیشنلز کے ساتھ جوش و خروش سےمنایا۔اس حوالے سے ایک تقریب پنجاب کرکٹ گراونڈ میں منعقد کی گئی جس میں آ غاخان فاونڈیشن پاکستان کے چیف ایگزیگٹیو جناب اختر اقبال صاحب نے خصوصی طور پرشرکت کی۔ نئےسال کی اس خوبصورت تقریب میں آ غاخان فاونڈیشن ...

مزید پڑھئے

آزاد نظم ضیاء افروز

گمان ” دھیان کی سیڑھیوں پہ چل کر میں نیم شب کو حسین خوابوں کی وادیوں میں نکل گیا تھا جہاں کے منظر ہی منفرد تھے جمال_فطرت کی چاندنی کا طلسم پھیلا ہوا تھا ہر سو سرشت_ہستی لطیف تر تھی ہر ایک جانب وفا کے ساغر چھلک رہے تھے جہاں کے باسی! وفا کے نغمے الاپتے تھے قدم قدم پر ...

مزید پڑھئے